جموں 10 فروری ۔ سرماٸی دارالحکومت جموں میں جموں وکشمیر ایمپلاٸز جواٸنٹ ایکشن کمیٹی کا ایک خصوصی اجلاس زیر صدارت پریذیڈنٹ ایجیک اور چیرمین ٹیچرس فورم محمد رفیق راتھر منعقد ہوا جس میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ ترمیم شدہ آرٹیکل 226(A) پر تفصیلی گفت وشنید ہوٸی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ مجوزہ ایس آرٹیکل جموں و کشمیر کے ملازمین کے ساتھ سراسر زیادتی اور ظلم ہے جس کے زریعے نان گزیٹڈ ملازمین کوبالخصوص عتاب کا شکار بنایا جارہا ہے اور ان کے حقوق کا گلا گھونٹھنے کی پوری سازش رچاٸی جارہی ہے، جو ایجیک کسی بھی طور قبول نہیں کرسکتی ہے ۔ایجیک سربراہ نے حکومت سے اپیل کی کہ اس آر ٹیکل کو فی الفور ہٹایا جاۓ اور ملازمین کے ساتھ جو ناروا رویہ برتا جارہا ہے اسے بند کیا جاۓ بصورت دیگر ملازمین قیادت جمہوری طرز عمل کو اپناتے ہوے راست قدم اٹھانے کیلٸے مجبور ہوجاٸیں گے۔
یاد رہے کہ اس آرٹیکل کے تحت ان ملازمین کو جن کی عمر 48 سال ہوچکی ہے یا جن کی سروس 22 سال ہوچکی ہے انھیں کسی بھی وقت نوکری سے سبکدوش کیا جاسکتا ہے ۔ رفیق راتھر نے کہا کہ ایسا قانون ہندوستان کی کسی بھی ریاست یا مرکزی زیر انتظام والے علاقے میں نافذ نہیں کیا گیا ہے تو صرف جموں و کشمیر میں ہی کیوں نافذ کیا جارہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے اس میں کوٸی خاص مقاصد پوشیدہ ہیں۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ اس جابرانہ قانون کو فوری طور ختم کیا جاۓ تاکہ ملازمین کو راحت ملے اور وہ سکون سے اپنی نوکری کرکے اپنے اہل وعیال کا پیٹ پال سکیں۔ اجلاس میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ عارضی ملازمیں کی نوکریوں کو مستقل کرنے کی بجائےسرکار بہانے بازی سے کام لیکر ملازمیں میں خوف وحراص کا ماحول قایم پیدا کرکے ملازمیں کی حق پر مبنی آواز کو دبانا چہتی ہے۔ رفیق راتھر نے کہا کہ ملازمیں قیادت مسلہ پر صلاح مشورہ کررہی ہے اور عنریب مشترکہ لاہحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
اجلاس میں جن دیگر لیڑران نے شرکت کی ان میں محمد افضل بٹ۔راجپال شرما۔سنجے شرما۔ سلیم ساغر۔بھارت بھوشن۔سجاد حسین ۔غلام نبی صوفی۔پرویز احمد۔ اومیش ۔طاریق لون۔مظفر ڈار۔جاوید خان۔پرویز مقبول۔اشفاق احمد۔ الطاف بٹ۔محمد عبدالہ۔ غاضی فیاض۔ نظیراحمد راتھر و دیگر لیڈران شامل تھے۔