(پیغامِ شریعت)

             قسط نمبر۔۔۔2

       *روزہ کی فضیلت و اہمیت*

جو شخص رمضان المبارک کو لاپرواہی کے ساتھ ضائع کردے اور اس کا حق ادا کرکے اپنے کو مستحق رحمت نہ بنائے، یقینا اس سے بڑا بدنصیب دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتا۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ اللہ کے نبی صلی علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام کو حکم دیا کے قریب ہو جاؤ پھر اس کے بعد آپ صلی علیہ وسلم منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہیں تو آپ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں “آمین” جب دوسرے درجے پر قدم رکھا تو آپ صلی علیہ وسلم نے “آمین” کہا پھر جب آپ صلی علیہ وسلم نے تیسرے درجے پر قدم رکھا تو فرمایا “آمین”پھر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی علیہ وسلم آج ہم نے آپ سے ایسی بات سنی جو پہلے نہیں سنی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب پہلے درجے پر میں نے قدم رکھا تو اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور انھوں نے یہ بد دعا دی کہ وہ آدمی ہلاک ہوجائے جس سے رمضان المبارک کا مہینہ ملے پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہو تو میں نے کہا “آمین” پھر جب دوسرے درجے پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا وہ شخص برباد ہو جائے جس کے سامنے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر مبارک کیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ درود نہ بھیجے تو میں نے کہا “آمین” پھر جب تیسرے درجے پر چڑھا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ وہ شخص بھی ہلاک ہو جو اپنی زندگی میں اپنے والدین یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے کے زمانے میں پائے اور وہ اسے جنت میں داخل نہ کرائیں تو میں نے کہا “آمین”(الترغیب والترہیب)

امتِ مسلمہ کے نوجوانو! افسوس ہے کہ آج رمضان المبارک کی قدر دانی میں بڑی کوتاہیاں پائی جارہی ہیں اور اس کا اظہار کرتے ہوئے بڑی شرم آتی ہے کہ تمام تر سہولیات کے باوجود ہمارے معاشرے میں بلا عذر روزہ خوروں کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے رمضان کے دنوں میں گلی اور محلوں میں چائے کے ہوٹل کھلے نظر آتے ہیں اور برسر عام ماہ رمضان کی توہین کی جاتی ہے رمضان المبارک کی راتیں عبادت میں کم سیروتفریح اور گپ شپ میں زیادہ صرف ہوتی ہیں اور جوں جوں عید کا زمانہ قریب آتا ہے رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنے تمام تر رحمتوں کے ساتھ سایہ فگن ہوتا ہے تو مسجدوں کے بجائے بازاروں کی رونق بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہے اور کیا مرد کیا عورتیں کیا جوان اور کیا بوڑھے سب رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹنے کے بجائے عید کی تیاری میں مدہوش ہو جاتے ہیں شہر ہو یادیہات ہو سب جگہ یہی ماحول نظر آتا ہے یہ بات بہت قابل توجہ ہے کہ ہمیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے آج کے نوجوان حضرات بھی رمضان المبارک کی راتوں میں اپنے موبایل وغیرہ کے ذریعہ جوا کھیلنے میں مگن رہتے ہیں اور ہمارے بزرگ حضرات وہ بھی ٹی وی دیکھنے اور لغو کاموں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں اور رمضان المبارک کا جو ہر منٹ قیمتی تھا اللہ کے قریب ہونے کے لئے کافی تھا اللہ سے مغفرت کروا نے کے لئے کافی تھا ہم اسے ضائع کر رہے ہیں اللّہ سے دعا کریں کہ اللہ تعالی ہمیں صحیح توفیق عنایت فرمائے اللہ ہمارے دلوں کو عبادت کی طرف پھیردے اللہ ہمارے ذریعہ سے مسجدوں کو آباد فرمائے ۔

روزے کی اہمیت
روزہ ضبطِ نفس اور روح کی بالیدگی کے لئے خاص طور پر مفید اور مؤثر ہے۔ انسان کی غلط روی اور غلط کاری کا ایک بہت بڑا سبب اُس کی شکم سیری ہوتا ہے۔ جب پیٹ خالی ہو تو کمر بھی خمیدہ ہوتی ہے اور گردن بھی جھکی ہوئی۔ اسلام نے روزے کو فرض قرار دے کر نفس کی اس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا : الصِّیَام جُنَّۃٌ (ترمذی) روزے ڈھال ہیں۔ روزے کی اس اسپرٹ کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ انسان چھوٹی بڑی تمام لغزشوں سے بچ سکے ، ورنہ اگر روزے کے باوجود وہ نفس پر قابو نہ رکھے تو وہ روزہ نہیں فاقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ عبادت کتنی پسند ہے ، اس کا اندازہ اس حدیث قدسی سے ہوتا ہے۔ الصَّوْمُ لِی وَأنَا أجزِئُ بِہِ (بخاری و مسلم) روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔
اور علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ روزے کے اندر ظاہری اعضاء اور باطنی قوتوں کی حفاظت کرنے کی عجیب تاثیر پائی جاتی ہے اس طرح روزہ ان فاسد مادوں کی ملاوٹ سے بچاتا ہے جو نفس پر غالب آنے پر اسے بگاڑ دیتے ہیں اسی طرح جو گھٹیا جذبات اور کیفیات روحانی صحت کے لئے مضر ہیں روزہ ان سب کو باہر کرنے میں اثر رکھتا ہے نیز روزہ دل اور اعضاء و جوارح کے صحت مندی کا محافظ ہے جو نفسانی خواہشات کے ہاتھوں صلاحیتیں ضائع ہوجاتی ہیں ان کو روزہ واپس لے آتا ہے بس روزہ تقوی کو حاصل کرنے میں سب سے بڑا معاون عمل ہے،(زاد المعاد)
اور بزرگوں کے واقعات سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ روزہ خواہشات کو توڑنے میں نہایت اثر رکھتا ہے اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نوجوانوں کو جومالی وسعت کی بنا پر نکاح سے عاجز ہوں مسلسل روزہ رکھنے کا مشورہ دیا تھا.(بخاری)

روزہ کا بے انتہا اجر و ثواب

      روزہ کے ذریعہ سے اللہ تعالی انسان کو اس بات کی مشق کرانا چاہتے ہیں کہ ہماری خواہش اصل نہیں بلکہ حکم خداوندی اصل ہے اس لیے اس کا ثواب بھی اللہ تعالی نے اپنے ذمہ لیا ہے۔حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کے ہر عمل کا اجر دس گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ اس (تحدید) سے مستثنیٰ ہے اس لیے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہےاور میں ہی اس کا بدلہ مرحمت فرماؤں گا کیونکہ روزہ دار نے اپنی خواہش اور کھانے پینے کو صرف میرے لئے چھوڑا ہے۔(بخاری)

اور آپ علیہ السلام نے فرمایا؛ تم روزہ رکھا کرو اس لئے کہ وہ بے مثال عمل ہے(الترغیب والترہیب)

روزہ دار کے لیے جنت کا خصوصی گیٹ

      حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کے اٹھ دروازے ہیں ان میں ایک دروازہ "ریان"نامی ہے جس میں صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔(مشکوۃ)

روزہ کی سفارش

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ اور قرآن بندے کے لیے دربار خداوندی میں سفارش کریں گے، روزہ کہے گا اے پروردگار!میں نے اس کو دن میں خواہشات اور کھانے سے روکے رکھا لہذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما (الخ) چنانچہ ان دونوں کی سفارش قبول کی جائیں گی (مشکوٰۃ)

روزہ دار کی دعاء رد نہیں ہوتی

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!روزہ دار کی دعاء رد نہیں کی جاتی (مصنف ابن ابی شیبہ)اور ایک حدیث میں ہے روزہ دار کی افطار کے وقت کی دعا رد نہیں ہوتی (شعب الایمان)

روزہ کی حالت میں ناجائز امور سے اجتناب لازمی ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جھوٹی بات اور ناجائز کلام کرنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس شخص کے کھانے پینے کو چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔(بخاری)

روزہ کی حالت میں غیبت سے اجتناب لازمی

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! جو شخص لوگوں کے گوشت کھاتا رہا (یعنی غیبت کرتا رہا) تو اس نے گویا روزہ ہی نہیں رکھا(مصنف ابن ابی شیبہ)

روزہ جہنم سے ڈھال ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ایسی ڈھال ہے کہ جس سے بندہ جہنم سے بچاؤ کرتا ہے۔((الترغیب والترہیب)

روزہ گناہوں کا کفارہ ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رمضان کا روزہ رکھے اور اس کے حدود کی رعایت رکھے اور جن چیزوں کی نگہداشت کرنی چاہیے ان کی نگرانی کرے تو اس کے گذشتہ معاصی کا کفارہ ہو جائے گا۔(الترغیب والترہیب)

روزہ سے تندرستی میں اضافہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!روزہ رکھو صحت مند رہو گے۔(الترغیب والترہیب)

روزہ بدن کی زکوٰۃ ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ آدھا صبر ہے اور ہر چیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے اور بدن کی زکوٰۃ روزہ ہے۔(شعب الایمان)

ان تمام روایات کی روشنی میں ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے اور روزہ کو ہر طرح کے قولی وعملی گناہ سے محفوظ رکھنے کی فکر کرنی چاہیے
اللّہ ہم سب کو صحیح سمجھ بوجھ عطاء فرمائے۔آمین

العبد:مفتی فاروق احمد بٹ القاسمی نامبلہ اوڑی کشمیر
9797433048

Leave a comment